
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراطلاعات فواد چوہدری اور سابق صدر آصف زرداری کی نااہلی کیلئے دائر درخواستیں خارج کردیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ سیاسی جماعتیں اپنے تنازعات عدالتوں سے باہر نمٹائیں۔
بدھ 23 فروری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس اطہرمن اللہ نے دونوں درخواستوں کی سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ دونوں کیسز منتخب نمائندوں سے متعلق ہیں،جب عوام نے انھیں منتخب کر رکھا ہے تو عدالت کیوں مداخلت کرے؟ کسی کو 2 لاکھ افراد منتخب کریں توایک غیر منتخب جج اسے نااہل کیوں کرے؟ ہر سیاسی جماعت نے سوشل میڈیا ٹرولنگ ٹیم بنارکھی ہےاور پھر اپنے معاملات عدالتوں میں لاتے ہیں،جس کے خلاف فیصلہ آجائے وہ ٹرولنگ شروع کردیتا ہے اورجب یہ سب ہونا ہے تو عدالتیں ان معاملات میں کیوں پڑیں؟۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس عدالت نےایک وزیر خارجہ کو نااہل کیا تھا،وہ حلقہ 7 ماہ تک عوامی نمائندگی سے محروم رہا،عدالتی فیصلے ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی لیکن اگر سیاسی جماعتیں معاشرے کی اخلاقیات ٹھیک کرنے کا خود عزم کرلیں تو معاشرہ اور سوشل میڈیا ٹھیک ہوجائے،آج تمام سیاسی جماعتیں اپنے پیروکاروں سے کہہ دیں کہ سوشل میڈیا پر بدتمیزی نہ کریں تو جھوٹی خبریں بھی رک جائیں گی۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نےمزیدریمارکس دیئے کہ عدالتوں کودیگر ضروری اور اہم نوعیت کے کیسز دیکھنے دیں،سیاسی جماعتیں اپنےجھگڑے باہر لڑیں۔
انھوں نے مزید ریمارکس دئیے کہ ہماری عدالتیں 139 نمبر پر ہیں۔ حالانکہ یہ ریٹنگ صرف عدالتوں کی نہیں پورے گورننس سسٹم کی ہوتی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے ریٹنگ کی بنیاد بننے والے فیکٹرز کی کاپی بھی وکلا کو دی اور کہا کہ یہ فیکٹرز پڑھیں اس میں ریٹنگ کیا صرف عدالتوں کی ہے؟یہ نہیں کہتے کہ عدالتیں بہت اچھی ہیں لیکن پورا سسٹم دیکھیں، گورننس سسٹم کی خامی ہو توعدالتوں پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہئے۔
عدالت نے درخواستیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانا عوام کے مفاد میں نہیں،عدالت اپنا اختیار استعمال کرنے سے گریز کرتی ہے،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ فواد چوہدری کےخلاف درخواست سمیع ابراہیم جبکہ آصف زرداری کےخلاف تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی خرم شیر زمان درخواست گزارتھے۔
from SAMAA https://ift.tt/SKjrqVT
0 Comments