امریکا میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں پر سخت ردعمل دیا ہے۔
روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک حالیہ پوسٹ کے مطابق سفیر اناتولی انتونوف نے کہا کہ پابندیوں جیسے اقدام سے عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔
روسی سفیر نے واضح کہا کہ امریکی پابندیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ روس کسی ایک دن بھی مغربی ممالک کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے بغیر رہا ہو، اس لیے ہم اس طرح کے حالات میں رہنا سیکھ چکے ہیں اور صرف یہی نہی بلکہ اپنی ریاست کو بھی ترقی دیتے ہیں۔
#Antonov: It is hard to imagine that someone in #Washington is counting on
to revise its foreign policy under the threat of sanctions. I don’t remember a single day when our country lived without any restrictions from the Western world.
https://t.co/yJ5qF3SfFD pic.twitter.com/Twrm8xT393
— Russian Embassy in USA
(@RusEmbUSA) February 23, 2022
اناتولی انتونوف نے واضح کیا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روس پر لگائی جانے والی پابندیوں سے عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں کو نقصان پہنچے گا۔
روسی سفیر کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے عام شہریوں کو شدید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور امریکا اس سے بری ذمہ نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ دو روز قبل روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو آزاد ملک تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کے بعد امریکا کی جانب سے پابندیاں لگائی گئیں جبکہ مغربی ممالک کی جانب سے بھی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
from SAMAA https://ift.tt/9X2aYpu


to revise its foreign policy under the threat of sanctions. I don’t remember a single day when our country lived without any restrictions from the Western world.
0 Comments