
کراچی میں بڑھتےہوئے اسٹریٹ کرائمز کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر میں ایس ایس یو کمانڈوز کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اس اہم تعیناتی کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا۔ڈی آئی جی سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی ڈویژن مقصود احمد کی مطابق ایس ایس یو کمانڈوز کی تعیناتی کا فیصلہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے خصوصی احکامات پر کیا گیا۔
ایس ایس یو کمانڈوز کےموٹرسائیکل اسکواڈ کو ہاٹ اسپاٹس پرتعینات کیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی کراچی میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (ایس ایس یو) نے 20 جوانوں پر مشتمل ایک اسکیٹنگ فورس تیار کی تھی۔ اس اسکیٹنگ فورس کا مقصد ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کو اسٹریٹ کرمنلز سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اکثر یہ بات مشاہدے میں آئی کہ مسلح ملزمان ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کو با آسانی لوٹ کر فرار ہو جاتے تھے۔ اس حوالے سے جب پولیس کو آگاہ کیا جاتا تو جب تک پولیس موبائل جائے وقوعہ پر پہنچتی، ملزمان فرار ہو جاتے تھے۔
اسی وجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ سال فروری میں ایس ایس یو کی اسکیٹنگ فورس قیام میں آئی اوراس فورس کا باقاعدہ ایک یونٹ بھی قائم ہوا۔ اس یونٹ کے سربراہ ایس پی فرخ علی نے بتایا کہ اس فورس کی ٹریننگ پر کئی ملین روپے خرچ ہوئے۔ اس فورس کی افادیت بتاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ کسی بھی پر ہجوم مقام پر گاڑی پر سوار پولیس اہلکارو کے مقابلے میں اسکیٹرز باآسانی پہنچیں گے۔اہلکاروں کوچھوٹے ہتھیار دیئے گئے ہیں تا کہ اگر ملزمان سے مقابلہ ہو تو اس کے نتیجے میں جائے وقوعہ پرموجود عام شہری محفوظ رہیں۔
سیاہ لباس میں ملبوس اسکیٹنگ فورس میں خواتین اہلکار بھی شامل تھیں۔ان کو پہلی دفعہ پاکستان سپرلیگ کےچھٹے ایڈیشن (2021) میں نیشنل اسٹیڈیم کے باہردیکھا گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ اہلکار کراچی کے ساحل ( سی ویو) پر بھی دکھائی دئیے تاہم اس کے بعد ان کا کوئی اتاپتہ نہیں تھا۔
سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کراچی پولیس ترجمان نے واضح کیا کہ شہر میں سیکیورٹی کی ذمہ داری کراچی پولیس کی ہے لیکن ایس ایس یو سندھ پولیس کے زیر انتظام چلنے والا ادارہ ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اعلی عہدوں پرفائز سرکاری افسران کی ذمہ داری بھی کراچی پولیس کی ہے اورسیکیورٹی ون اور سیکیورٹی ٹو دو ایسے یونٹ ہیں، جو ان افراد کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔
کراچی پولیس کے موقف کو سامنے رکھا جائے تو پولیس کی موجودگی ایس ایس یو کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ پولیس کے ہر محکمے کی طرح ایس ایس یو کو بھی سالانہ بجٹ ملتا ہے لیکن اس ادارے نے قیام سے آج تک نا تو کوئی کرمنل کیس حل نہیں کیا۔ اس ادارے کے سربراہ ڈی آئی جی مقصود احمد کو وفاقی حکومت کی روٹیشن پالیسی کے تحت گزشتہ سال دوسرے صوبے میں تعینات بھی کیا تھا مگر انہوں نے سندھ حکومت کے احکامات پر صوبہ نہیں چھوڑا۔
قانونی طور پر پولیس سروس آف پاکستان جسے ہم پی ایس پی افسر کہتے ہیں، وفاقی حکومت کے ملازم ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وفاق نے روٹیشن پالیسی کے تحت پہلے 5 ڈی آئی جیز کا تبادلہ سندھ سے باہر کیا اور وہ تمام افسران صوبہ سندھ چھوڑ کر دوسرے صوبوں میں چلے گئے اور دوسرے مرحلے میں 7 ڈی آئی جیز کا تبادلہ کیا جن میں سے 6 پی ایس پی افسران وفاقی حکومت کے احکامات پر اپنی نئی پوسٹنگ پر چلے گئے لیکن ڈی آئی جی مقصود احمد وہ واحد افسر ہیں جو ملازم تو وفاقی حکومت کے ہیں لیکن وفادار سندھ حکومت کے رہے۔
ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز اور پولیس کی نااہلی کو چھپانے کے لیے ایس ایس یو کے موٹر سائیکل سوار کمانڈوز کی تعیناتی فعال کردار ادا نہیں کرسکے گی۔
from SAMAA https://ift.tt/IRz1Fv0
0 Comments