
نور مقدم قتل کیس میں سزا یافتہ شریک مجرم جان محمد نے سزا کےخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائرکردی ہے۔
مجرم جان محمد نے وکیل کامران مرتضی کے ذریعے درخواست دائر کی۔ درخواست میں ٹرائل کورٹ کی 10 سال سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی۔
درخواست میں بتایا گیا کہ ایف آئی آر میں ملزم نہیں تھا،ضمنی بیان میں ملزم بنادیا گیا۔انھوں نے یہ بھی موقف اختیار کیا کہ پی ایم سیکریٹریٹ میں ملازم ہوں اورپارٹ ٹائم اس گھر میں کام کررہا ہوں،میرے خلاف الزام ثابت کرنے کیلئے کوئی ثبوت نہیں،سزا کالعدم قرار دی جائے۔
عدالتی فیصلہ
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج عطا ربانی نے نور مقدم کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی اورشریک ملزمان چوکیدارافتخاراور مالی جان محمد کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔مرکزی مجرم کے والدین کو کیس سے بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
ظاہر جعفر کو عدالتی کارروائی پر آنےوالےاخراجات کی مد میں بھی نور مقدم کے خاندان کو5 لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
ظاہر جعفر کو سزائے موت کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت بھی سزائیں سنا دی گئیں جن میں حبسِ بےجا کی دفعہ 364 پر 10 سال قید کی سزا اور1لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
مجرم ظاہر جعفر کو دفعہ 342 کے تحت 1 سال قید بامشقت اور جنسی زیادتی پر 25 سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
فیصلے میں عدالت نے تھراپی ورکس کے تمام ملازمین کو بری کردیا۔
مجرم ظاہرجعفر کے والدین،تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور اور دیگر ملازمین کو بری کردیا گیا۔ عدالت کی جانب سے ظاہر جعفر کے خانساماں جمیل کو رہا کرنے کا بھی حکم دیا۔
پس منظر
واضح رہے کہ گزشتہ سال 20 جولائی کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں نور مقدم کو ظاہر جعفر نے اپنے گھر میں قتل کیا تھا۔
عیدالضحیٰ سے ایک روز قبل 20 جولائی 2021 کو رات 10 بجے نور مقدم کے والد شوکت مقدم کو پولیس کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ان کی بیٹی کا قتل ہو گیا ہے، وہ فوری تھانہ کوہسار پہنچیں۔ جہاں سے پولیس ان کو لے کر اسلام آباد کے ایف سیون فور میں ملک کے معروف بزنس مین ذاکر جعفر کے گھر لے گئی، جہاں نور مقدم کی سر کٹی ہوئی لاش کی شناخت کی گئی۔ پولیس نے موقع سے ہی ذاکر جعفر کے بیٹے ظاہر جعفر کو مبینہ طور پر آلۂ قتل سمیت گرفتار کر لیا تھا۔
پولیس نے ظاہر جعفر کو خون آلود قمیض میں سیکٹر ایف سیون اسلام آباد کے گھر سے گرفتار کرکے آلۂ قتل بھی برآمد کیا تھا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں قتل کا یہ مقدمہ چار ماہ آٹھ دن چلا، عدالت نے 22 فروری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ 28 سالہ نور مقدم کو گزشتہ سال عید الضحیٰ سے ایک روز قبل قتل کیا گیا تھا۔ وہ سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی تھی۔
گزشتہ سال 20 جولائی کو واردات ہونے کے بعد کیس کے ٹرائل کا اکتوبر میں آغاز ہوا جو 4 ماہ میں اختتام ہوا۔ 24 فروری کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اس کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنائے گی۔
خبر منظر عام پر آنے کے بعد مقتولہ کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھائیں اور وزیراعظم عمران خان نے اس کیس کا نوٹس لے لیا۔ اس قتل کے وقت مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین عید الضحیٰ منانے کے لیے کراچی میں موجود تھے۔ جنہیں اسلام آباد پولیس نے 24 جولائی کو جائے وقوعہ پر موجود ملازمین سمیت جرم کے شواہد چھپانے اور اعانت کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
جولائی 26 کو وفاقی وزارت داخلہ نے ملزم ظاہر جعفر کا نام بلیک لسٹ میں ڈالتے ہوئے تمام ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد ملزمان کے نام 10 اگست کو ای سی ایل میں ڈال دیے گئے۔
سی سی ٹی وی ریکارڈنگ
نو نومبر بروز منگل کو ڈسٹرکٹ کورٹ میں اسلام آباد پولیس نے واقعے کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ جمع کروائی۔ ریکارڈنگ کا وقت پاکستان کے معیاری وقت سے 35 منٹ آگے تھا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ نور مقدم 18 جولائی کو رات 10 بج کر 18 منٹ پر فون سنتے ہوئے ملزم کے گھر داخل ہوئی۔ 19جولائی کی رات 2 بج کر 39 منٹ پر ظاہر ذاکراورنورمقدم بیگ لے کر گیٹ سے باہر نکلے اور مین گیٹ کے باہر ٹیکسی میں سامان رکھ کر دونوں دوبارہ گھر میں داخل ہوئے۔
اس کے بعد 2 بج کر 41 منٹ پر نورمقدم ننگے پاﺅں گیٹ کی طرف بھاگ کر آئی لیکن فوٹیج میں دیکھا گیا کہ چوکیدار افتخار نے گیٹ کو بند کردیا۔ اس دوران ظاہرذاکرنے گیٹ پر آکر نور مقدم کو دبوچ لیا۔ نورمقدم ہاتھ جوڑ کر ظاہرذاکر کی منت سماجت کرتی رہی لیکن نورمقدم کو زبردستی کھینچ ظاہرگھرکے اندر لے گیا۔
ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ رات 2 بج کر 46 منٹ پر دونوں دوبارہ مین گیٹ سے باہر نکلے اورگھر کے باہر موجود ٹیکسی میں بیٹھ کر چلے گئے۔2 بج کر 52 منٹ پر دونوں بیگ سمیت واپس گھر میں داخل ہوئے۔ مین گیٹ پرچوکیدارافتخار اورصحن میں کتا بھی نظرآ رہا تھا۔
نورمقدم قتل کیس،مزیدگواہان بیانات ریکارڈ کرانےکیلئےعدالت طلب
اس کے بعد20 جولائی کو شام 7 بج کر 12 منٹ پر نور مقدم نے فرسٹ فلور سے چھلانگ لگائی اور وہ گراﺅنڈ فلور کی گیلری کے ساتھ لگے جنگلے پر جا گری۔ ویڈیو میں دیکھا گیا کہ نورمقدم لڑکھڑاتی ہوئی دروازے پر آئی اوراس کے ہاتھ میں موبائل فون بھی تھا۔ نور مقدم باہر جانا چاہتی تھی مگر چوکیدار افتخار اور مالی نے گیٹ بند کردیا۔ اس دوران ظاہر جعفر بھی ٹیرس سے چھلانگ لگا کر گراؤنڈ فلور پرآگیا۔ ظاہرجعفر نے دوڑ کر نور مقدم کو پکڑ کر گیٹ پر بنے کیبن میں بند کردیا۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ظاہرنے کیبن کھول کر نور مقدم سے موبائل فون چھین لیا اور اس کے بعد اس کو زبردستی گھر کے اندر لے گیا۔ویڈیو میں دیکھا گیا کہ 20 جولائی کو 8 بج کر 6 منٹ پر تھراپی ورکس کی ٹیم دروازے سے اندر آئی۔8 بج کر 42 منٹ پر ٹیم گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کررہی ہے۔8 بج کر 55 منٹ پر تھراپی ورکس ٹیم ایک زخمی کو گھر سے باہر لے جا رہے تھی۔
واقعہ کا مقدمہ
واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے والد کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (منصوبہ بندی کے تحت قتل) کے تحت درج کیا گیا تھا۔ کیس کے سلسلے میں عدالت میں پیش کردہ پولیس چالان میں کہا گیا تھا کہ مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے ساتھیوں کی ملی بھگت کے باعث نور مقدم نے جان بچانے کی 6 کوششیں کی جو ناکام رہیں۔
from SAMAA https://ift.tt/RLsueVZ
0 Comments