
دریائے سندھ کے قریب مچھیروں نے نایاب نسل کی بھاری وزنی مچھلی پکڑ لی۔
ماہی گیروں کے مطابق مچھلی کو المنظر کے مقام پر پکڑا گیا۔ نایاب مچھلی کے شکار کی خبر پھیلتے ہی دریا کنارے لوگوں کا رش لگ گیا۔
محکمہ وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ مچھلی کا وزن 55 کلو سے زیادہ ہے۔ اس کو فوجی کھگا مچھلی کہا جاتا ہے۔ وائلڈ لائف حکام کا مزید کہنا تھا کہ اس مچھلی کا شکار ہمارے قوانین میں جرم نہیں ہے۔
دوسری جانب محکمہ فشریز کے افسر ڈاکٹر میر الہ داد تالپور نے سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس مچھلی کا اصل نام ریٹا ہے۔ یہ تاثر غلط ہے کہ یہ ایک نایاب مچھلی ہے، یہ مچھلی دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے اور عموماً اس کا وزن 5 کلو سے زیادہ نہیں ہوتا ہے۔
ڈاکٹر میر الہ داد نے مزید بتایا کہ یہ مچھلی گڈو بیراج اور سکھر بیراج کے درمیان پائی جاتی ہے۔ وزن کے حساب سے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور عموماً دوا ساز کمپنیاں اس مچھلی کو دوائیاں بنانے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان میں یہ مچھلی روسی ماہرین لیکر آئے تھے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس مچھلی کو کیموفلاج ڈیزائن کے باعث فوجی مچھلی کہا جاتا ہے۔
from SAMAA https://ift.tt/oVJnZIj
0 Comments