Ticker

6/recent/ticker-posts

Advertisement

Responsive Advertisement

توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ چیلنج

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ کیس کو قافل سماعت قرر دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔

عمران خان نے توشہ خانہ کیس قابل سماعت ہونے کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت قرار دیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے درخواست بیرسٹر گوہر نے دائر کی ہے۔

کیس کی سماعت

دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل گوہر علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے جج نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ایک سماعت بتادیں جس میں چیئرمین پی ٹی آئی عدالت پیش ہوئے ہوں، جس پر وکیل نے کہا کہ حکومت نے خود کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو کچہری میں خطرات ہیں۔ سیشن جج نے ریمارکس دیئے کہ توشہ خانہ کیس میں عدالت آپ کیلئے بہت نرم رویہ رکھ رہی ہے، اتنے نرم رویے کی مثال اور کہیں نہیں ملتی۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آئینِ پاکستان خود کہتا ہےکہ کرپٹ پریکٹس کےخلاف کارروائی کرنی ہے، کسی شخص کو کرپٹ ثابت کرنے کے لیے قانون میں مخصوص وقت نہیں لکھا، اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بنا کربھیجا کہ سابق وزیراعظم نے تحائف ظاہر نہیں کیے۔ الیکشن کمیشن نے ریفرنس پر نوٹس لیا اور اس پر قانونی کارروائی کرکے فیصلہ جاری کیا۔

خیال رہے کہ 10 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی پر توشہ خانہ فوجداری کیس میں فرد جرم عائد کردی گئی تھی، انہیں فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی تھی۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں فرد جرم کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ 12 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کا ٹرائل روک دیا تھا تاہم 4 جولائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کو دوبارہ سماعت کیلئے سیشن کورٹ واپس بھیج دیا تھا۔



from Samaa - Latest News https://ift.tt/HSwz1VR

Post a Comment

0 Comments